ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھٹکل میں رپورٹرس اسوسی ایشن ، محکمہ جنگلات اور شمس اسکول نے منایا عالمی یوم ماحولیات

بھٹکل میں رپورٹرس اسوسی ایشن ، محکمہ جنگلات اور شمس اسکول نے منایا عالمی یوم ماحولیات

Mon, 05 Jun 2017 14:14:14    S.O. News Service

      بھٹکل 5/جون (ایس او نیوز) ہندوستان  سمیت دنیا بھر میں ۵  جون کو ماحولیات کا عالمی دن منایا جاتا ہے،  جس کا بنیادی مقصد عالمی ماحول کو درپیش خطرات کے بارے میں عوامی شعور کو اجاگر کرنا ہے اور  عوام میں ماحول کی بہتری اور آلودگی کے خاتمہ سے متعلق شعور و آگاہی پیدا کرنا ہے۔ اقوام متحدہ کی جانب سے ۴ جون ۱۹۷۴ء سے ہر سال یہ دن ماحولیاتی مسائل پر قابو پانے کے عزم کے ساتھ منایا جاتا ہے جس کے تحت دنیا کے بیشتر ممالک میں ماحولیات کے عالمی دن کی مناسبت سے جلسے، ریلیاں، سیمینارز اور دیگر تقاریب کا انعقاد کیا جاتا ہے۔

بھٹکل میں امسال بھٹکل ورکنگ جرنلسٹ اسوسی ایشن ، محکمہ جنگلات اور شمس انگلش میڈیم ہائی اسکول کے اشتراک سے شمس اسکول میں ہی یوم ماحولیات منایا گیا جس میں مہمان خصوصی کے طور پر سرسی سے تشریف فرما ماحولیاتی  کارکن اور مغربی گھاٹ کے  ٹاسک فورس کے سابق صدر آننت ہیگڈے اشیسر نے  شرکت کرتے ہوئے جنگلات کو بچانے اور درختوں کو بڑے پیمانے پر اُگانے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ آج سے پچاس سال پہلے تک ہمیں جنگلات کوبچانے کی ضرورت نہیں تھی،  قدرتی طور پر نشونما پانے والے درخت اور جھاڑیاں ہمیں نہ صرف اکسیجن فراہم کررہے تھے بلکہ پینے کے پانی کا اہم ذریعہ بھی بنی ہوئے تھے،مگر آج جس رفتار سے درختوں کو  کاٹا جارہا ہے اور جنگلات ختم ہوتے جارہے ہیں، اس کو دیکھتے ہوئے محسوس ہورہا ہے کہ یہی سلسلہ اگر جاری رہا تو ہمارے کنوئوں میں پینے کا میٹھا پانی دستیاب نہیں ہوگا، ہمیں سمندری کھارے پانی کو مشینوں کے ذریعے فلٹرکرکے پینا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ ساحلی علاقہ میں کونکن ریلوے کے لئے ایک لاکھ سے زائد درخت کاٹے گئے، نیشنل ہائی وے کی توسیع کو لے کر صرف کاروار سے مینگلور تک پچاس ہزار درخت کاٹے گئے، مگر جتنے درخت کاٹے گئے، اُتنی تعداد میں ہم نے ابھی تک درختوں کو  نہیں اُگایا،  جس سے جنگلات کا صفایا ہورہا ہے ،  گھر تعمیر کرنے،  عمارتیں بنوانے اور دیگر اُمور پر بھی درختوں کی کٹائی جاری ہے، جس کو نہ صرف روکنا بے حد ضروری ہے بلکہ ہمیں چھوٹی چھوٹی دستیاب جگہوں پر بھی درخت اُگانے کی ضرورت ہے۔

شمس اسکول کے نائب صدر اشرف برماور نے ماحول کو آلودگیوں  سے پاک و صاف رکھنے کے لئے طلبہ کے رول پر روشنی ڈالی اور کہا کہ خوشگوار اور صحت مند معاشرے کی تشکیل کیلئے ماحولیاتی مسائل پر قابوپانا انتہائی ضروری ہے۔ اسکول سکریٹری طلحہ سدی باپا نے درختوں کی کٹائی پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس پر فوری توجہ نہیں دی گئی تو نہ صرف پانی کا بہت بڑا مسئلہ کھڑا ہوجائے گا بلکہ لوگوں کو سانس لینے کے لئے بھی اکسیجن ماسک لگانے کی نوبت آسکتی ہے۔انہوں نے  طلبہ اور عوام سے درخواست کی کہ ماحول کو بچانے اور جنگلات کو محفوظ رکھنے کے لئے اپنے  طور پر کوشش کریں، انہوں نے عوام الناس پر زور دیا کہ  ہر شخص ہرسال  کم ازکم ایک درخت اُگاکر صاف ستھرے سما ج کی پروان چڑھائیں، انہوں نے  درختوں کو اُگانے کے تعلق سے احادیث نبوی کا بھی حوالہ دیا  اور طلبہ کو پیڑ پودے اگانے کی تلقین کی

پروگرام کی صدارت کرتے ہوئے بھٹکل ورکنگ جرنلسٹ اسوسی ایشن کے صدر رادھا کرشن بھٹ نے بچوں کو ہدایت دی کہ وہ اپنے اپنے گھروں اور کمپائونڈوں میں درخت اُگائیں اور اپنے دوستوں کو اس کام کی تلقین کریں، والدین اور سرپرستوں کو معلومات فراہم کریں اوردرختوں کی غیر ضروری کٹائی کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کریں۔

پروگرام کا آغاز تلاوت کلام پاک مع ترجمہ سے ہوا، بھٹکل تعلقہ پنچایت کے صدر ایشورنائک نے شمس اسکول کے دس  کلاس لیڈروں  کو پودے دیتے ہوئے اپنے اپنے گھروں میں شجرکاری کرنے کی ہدایت دی، اس موقع پر بتایا گیا کہ آئندہ سال  اُس طالب العلم کو انعام سے نوازاجائے گا ،  جس  کا پودا زیادہ بڑا ہوگا۔

پروگرام میں شمس کے بچوں نے درختوں کی کٹائی کو روکنے اورکٹائی سے ہونے والے نقصانات کے تعلق سے بیداری پیداکرنے ایک شو بھی پیش کیا، جسے حاضرین نے خوب سراہا۔

جرنلسٹ اسوسی ایشن کے جنرل سکریٹری بھاسکر نائک نے  تمام مہمانوں کا تعارف پیش کرتے ہوئے اُن کا استقبال کیا،  شمس اسکول کے پرنسپال اور ورکنگ جرنلسٹ اسوسی ایشن کے  سرگرم رکن  محمد رضا مانوی نے پروگرام کی نظامت کی، اسوسی ایشن کے نائب سکریٹری موہن نائک نے آخر میں کلمہ تشکر پیش کیا۔

اس موقع پر اسکول کے کمپائونڈ میں شجرکاری پروگرام بھی منعقد ہوا جس میں مہمان خصوصی آنند ہیگڈے اشیسر نے طلبہ اور دیگر ذمہ داران کی موجودگی میں شجرکاری کی شروعات کی۔


Share: